حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسجد مقدس جمکران کے متولی حجت الاسلام والمسلمین سید علی اکبر اجاق نژاد نے صوبہ قم کے ادارہ روابط عمومی کے منتظمین کی مسجد مقدس جمکران کے متولی اور ذمہ داران کے ساتھ منعقدہ نشست میں اس شہر کی تہذیبی اور تاریخی حیثیت پر زور دیتے ہوئے کہا: قم محض ایک مذہبی شہر نہیں ہے بلکہ اس کی ایک تہذیبی اور تاریخی شناخت ہے جو دہائیوں بلکہ صدیوں سے مختلف اقوام اور معاشروں کے ذہنوں میں پیوست ہے اور اسی وجہ سے دنیا کے بہت سے لوگ قم کو ایران کا دوسرا دارالحکومت سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا: قم کا یہ مقام کسی ایک شخص یا کسی خاص ادارے کی سرگرمی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ قم کی داخلی صلاحیتیں، تاریخی پس منظر، علمی حیثیت اور ثقافتی کردار نے اس شہر کے بارے میں دنیا کے نقطہ نظر کو ایک جغرافیائی مرکز سے بالاتر کر دیا ہے اور یہ مسئلہ ثقافتی اور میڈیا کارکنوں کی ذمہ داری کو دوچندان کر دیتا ہے۔
مسجد مقدس جمکران کے متولی نے کہا: ملکی ثقافتی میدان میں سنگین کمزوریوں میں سے ایک نئی نسل کو تاریخ، تہذیب اور ثقافتی سرمایوں کی صحیح پہچان کروانے میں کمزوری ہے اور اگر ان اثاثوں کو صحیح طریقے سے بیان اور روایت نہ کیا گیا تو نوجوان نسل بیرونی نمونوں کی طرف مائل ہو جائے گی۔

انہوں نے روابط عمومی اور میڈیا کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: آپ ملکی میڈیا ڈھانچے کا حصہ ہیں اور آج پہلے سے کہیں زیادہ سماجی اور ثقافتی واقعات کو ریکارڈ کرنے، بیان کرنے اور منتقل کرنے کی ذمہ داری آپ پر ہے کیونکہ ان دنوں کے عوامی اجتماعات جیسے بہت سے اہم واقعات اگر ریکارڈ اور دستاویزی شکل میں محفوظ نہ کیے گئے تو وقت کے ساتھ بھلا دیے جائیں گے۔
حجت الاسلام والمسلمین اجاق نژاد نے کہا: منصفانہ تنقید اور غلطیوں کا قبول کرنا ترقی کا باعث ہوتا ہے، انسان کو صحیح تنقید پر ناراض نہیں ہونا چاہیے اور اگر کوئی تنقید کام کی اصلاح اور بہتری کا باعث بنتی ہے تو وہ درحقیقت ایک قیمتی موقع ہوتی ہے۔
انہوں نے وطن کے دفاع میں عوام کی وسیع موجودگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جو واقعات ان دنوں معاشرے میں رونما ہو رہے ہیں ان کے اہم ثقافتی اور سماجی پہلو ہیں اور ان واقعات کو آنے والی نسلوں کے لیے صحیح طریقے سے ریکارڈ اور منعکس کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ معاشرے کی تاریخی یادداشت کا ایک اہم حصہ تشکیل دیتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ